بیجنگ 26؍نومبر(ایس اونیوز ؍آئی این ایس انڈیا) چینی سرکاری میڈیانے وزیراعظم نریندر مودی کے نوٹ بندی کے اقدامات کوانتہائی مثالی بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک’’جوا‘‘ہے جو ہر حال میں ایک مثال پیش کرے گا۔ چینی میڈیا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ قدم کامیاب رہے یا ناکام ثابت ہو، چین بدعنوانی پراس کے اثرات سے سبق لے گا۔ سرکاری اخبار’’گلوبل ٹائمز‘‘نے ’’مودی اے گیمبل ود منی ریفارم‘‘کے عنوان سے شائع ہوئے مضمون میں کہا ہے کہ ہم اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اگر چین 50اور100یوآن کے نوٹ کو بند کر دیتا ہے تو چین میں کیا ہوگا۔چین میں سب سے زیادہ قیمت کا نوٹ 100یوآن ہے۔اداریہ میں کہاگیاہے کہ انفارمیشن لیک ہونے سے بچانے کیلئے نوٹ بندی سے متعلق اقدامات کے نفاذ کو خطرے میں ڈالتے ہوئے منصوبہ بندی کو خفیہ رکھنا پڑا۔مودی اس وقت مشکوک پوزیشن میں ہیں کیونکہ اس اصلاح کا مقصد کالے دھن کو بیکار کرنا ہے لیکن یہ عمل کوئی نئی پالیسی کے آغاز سے پہلے عوامی حمایت حاصل کرنے کی انتظامیہ کے اصول کے برعکس ہے۔اس میں کہاگیاہے کہ بھارت میں90فیصد سے زیادہ لین دین نقد میں کیا جاتا ہے، ایسے میں چلن میں موجود85فیصدنوٹوں کی پابندی سے لوگوں کو روز مرہ کی زندگی میں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔آگے لکھا گیا ہے کہ نوٹ بندی سے بدعنوانی اور غیر قانونی اقتصادی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے لیکن یہ ان گہری سماجی اور سیاسی معاملات کو حل کرنے میں واضح طور پر غیر فعال ہے جو مسائل کو بڑھانے میں مددگار ہیں۔ بدعنوانی کی موجودگی کی جڑ کی بات ہے تو مسائل ہمیشہ دوبارہ پیدا ہوں گے۔